صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۹ - دو لوگوں پر رشک جائز ہے

رشک کی حدیث: مال حق میں خرچ کرنا اور حکمت سکھانا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۰۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ , قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ ، رَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ ، وَرَجُلٍ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهُوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا " .

ابن مسعود روایت:

حسد (رشک) کرنا صرف دو ہی آدمیوں کے ساتھ جائز ہو سکتا ہے۔ ایک تو اس شخص کے ساتھ جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق اور مناسب جگہوں میں خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرے اس شخص کے ساتھ جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت (عقل علم قرآن و حدیث اور معاملہ فہمی) دی اور وہ اپنی حکمت کے مطابق حق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حسد یعنی رشک صرف دو باتوں میں ہو سکتا ہے۔ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور اسے حق جگہ خرچ کرنے کی توفیق دی۔ دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے حکمت دی، وہ اس کے مطابق فیصلے کرتا ہے اور لوگوں کو سکھاتا ہے۔ یہاں رشک سے مراد برا حسد نہیں، بلکہ نیکی کی تمنا ہے کہ کاش مجھے بھی ایسی نیکی کی توفیق ملے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ مال خود مقصد نہیں، بلکہ مال کا درست استعمال قابل قدر ہے۔ اسی طرح علم یا حکمت صرف اپنے پاس رکھنے کی چیز نہیں، اس سے فیصلہ بھی کیا جائے اور لوگوں کو فائدہ بھی دیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال کی اصل خوبی اسے حق جگہ خرچ کرنے میں ہے۔
  • حکمت ملے تو اس کے مطابق فیصلہ اور تعلیم دینی چاہیے۔
  • نیکی میں رشک کرنا بری حسد والی بات نہیں۔
  • مال اور علم دونوں انسان کی ذمہ داری بڑھاتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں