صحیح بخاری حدیث ۷۵۲۹ - قرآن کی تلاوت اور خرچ میں رشک
دو قابل رشک لوگ: قرآن پڑھنے والا اور خرچ کرنے والا
صحیح بخاری : ۷۵۲۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۲۹
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ " ، سَمِعْتُ سُفْيَانَ مِرَارًا لَمْ أَسْمَعْهُ يَذْكُرُ الْخَبَرَ ، وَهُوَ مِنْ صَحِيحِ حَدِيثِهِ .
´ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک کے قابل تو دو ہی آدمی ہیں۔ ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ اس کی تلاوت رات دن کرتا رہتا ہے اور دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے رات و دن خرچ کرتا رہا۔“ علی بن عبداللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث سفیان بن عیینہ سے کئی بار سنی «أخبرنا» کے لفظوں کے ساتھ انہیں کہتا سنا باوجود اس کے ان کی یہ حدیث صحیح اور متصل ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۵۲۹ کا خلاصہ
یہ حدیث نیکی میں رشک کے بارے میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رشک کے قابل دو ہی آدمی ہیں: ایک وہ جسے اللہ نے قرآن دیا اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا رہتا ہے، دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے رات دن خرچ کرتا رہتا ہے۔ اس حدیث میں قرآن کے ساتھ مسلسل تعلق اور مال کے صحیح استعمال کو نمایاں کیا گیا ہے۔ عام زندگی میں انسان دوسروں کی دنیاوی چیزوں کو دیکھ کر متاثر ہوتا ہے، مگر یہ حدیث رخ بدل دیتی ہے۔ اصل قابل رشک چیز وہ عمل ہے جو اللہ کی دی ہوئی نعمت کو اچھے کام میں لگائے، چاہے وہ قرآن ہو یا مال۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی نعمت کا حق یہ ہے کہ اسے پڑھا جائے۔
- مال کو اچھے مصرف میں خرچ کرنا قابل قدر عمل ہے۔
- نیکی میں دوسروں جیسا بننے کی خواہش کی جا سکتی ہے۔
- حدیث میں دن رات کی پابندی عمل کی لگن کو ظاہر کرتی ہے۔
