حدیث ۸۱۶

صحیح مسلمحدیث نمبر ۸۱۶

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ ، أَوْ بِذَاتِ الْجَيْشِ ، انْقَطَعَ عِقْدٌ لِي ، فَأَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْتِمَاسِهِ ، وَأَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَأَتَى النَّاسُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالُوا : أَلَا تَرَى إِلَى مَا صَنَعَتْ عَائِشَةُ ؟ أَقَامَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبِالنَّاسِ مَعَهُ ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ رَأْسَهُ عَلَى فَخِذِي ، قَدْ نَامَ ، فَقَالَ : حَبَسْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالنَّاسَ ، وَلَيْسُوا عَلَى مَاءٍ ، وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ ، قَالَتْ : فَعَاتَبَنِي أَبُو بَكْرٍ ، وَقَالَ : مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ ، وَجَعَلَ يَطْعُنُ بِيَدِهِ فِي خَاصِرَتِي ، فَلَا يَمْنَعُنِي مِنَ التَّحَرُّكِ ، إِلَّا مَكَانُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَخِذِي ، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَصْبَحَ عَلَى غَيْرِ مَاءٍ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ فَتَيَمَّمُوا سورة المائدة آية 6 ، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ الْحُضَيْرِ وَهُوَ أَحَدُ النُّقَبَاءِ : مَا هِيَ بِأَوَّلِ بَرَكَتِكُمْ يَا آلَ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَبَعَثْنَا الْبَعِيرَ الَّذِي كُنْتُ عَلَيْهِ ، فَوَجَدْنَا الْعِقْدَ تَحْتَهُ " .

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں نکلے، جب بیداء یا ذات الجیش میں پہنچے (بیداء اور ذات الجیش یہ دونوں جگہوں کے نام ہیں خیبر اور مدینہ کے بیچ میں) تو میرے گلے کا ہار ٹوٹ کر گر گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ڈھونڈنے کے لئے ٹھہر گئے لوگ بھی ٹھہر گئے وہاں پانی نہ تھا اور لوگوں کے ساتھ پانی تھا۔ لوگ سیدنا ابوبکررضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: تم دیکھتے نہیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کیا ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ٹھہرایا اور لوگوں کو بھی، جہاں پانی نہیں، نہ ان کے ساتھ پانی ہے، یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا سر میری ران پر رکھے ہوئے سو گئے تھے۔ انہوں نے کہا: تو نے روک رکھا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو۔ یہاں نہ پانی ہے اور نہ لوگوں کے پاس پانی ہے اور انہوں نے غصہ کیا اور جو اللہ نے چاہا وہ کہہ ڈالا۔ اور میری کوکھ میں ہاتھ سے کونچے دینے لگے۔ میں ضرور ہلتی مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سر میری ران پر تھا، اس وجہ سے میں ہل نہ سکی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوتے رہے، یہاں تک صبح ہو گئی اور پانی بالکل نہ تھا تب اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری۔ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور وہ نقیبوں میں سے تھے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ کی رات کو انصار کے بارہ آدمیوں کو نقیب مقرر کیا تھا یعنی اپنی قوم کا نگہبان تاکہ ان کو اسلام کی باتیں سکھائیں اور دین کے احکام بتلائیں) اے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اولاد! یہ کچھ پہلی برکت نہیں ہے تمہاری (یعنی تمہاری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ مسلمانوں کو فائدہ دیا ہے یہ بھی ایک نعمت تمہارے سبب ملی) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر ہم نے اس وقت اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی ہار اس کے نیچے سے نکلا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں