صحیح بخاری حدیث ۷۵۲۸ - قرآن اور مال میں نیکی کا رشک
رشک کی حدیث: قرآن کا علم اور مال کا صحیح خرچ
صحیح بخاری : ۷۵۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۲۸
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحَاسُدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ ، فَهُوَ يَقُولُ : لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا لَفَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ ، فَيَقُولُ : لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ عَمِلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے، ایک اس پر جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور وہ اس کی تلاوت رات دن کرتا ہے تو ایک دیکھنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اسی جیسا قرآن کا علم ہوتا تو میں بھی اس کی طرح تلاوت کرتا رہتا اور دوسرا وہ شخص ہے جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے اس کے حق میں خرچ کرتا ہے جسے دیکھنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی اللہ اتنا مال دیتا تو میں بھی اسی طرح خرچ کرتا جیسے یہ کرتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۷۵۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں حسد کے بجائے نیکی کے اچھے رشک کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو لوگوں کا ذکر فرمایا: ایک وہ جسے اللہ نے قرآن کا علم دیا اور وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا ہے، دوسرا وہ جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے اس کے حق میں خرچ کرتا ہے۔ دیکھنے والا کہتا ہے کہ کاش مجھے بھی ایسا قرآن کا علم یا ایسا مال ملتا تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا۔ اس حدیث کا پیغام صاف ہے کہ اصل قابل رشک چیز قرآن کے ساتھ تعلق اور مال کا درست استعمال ہے۔ یہاں رشک کا مطلب کسی کی نعمت چھن جانے کی خواہش نہیں، بلکہ نیکی میں آگے بڑھنے کی خواہش ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کا علم ملنا بڑی نعمت ہے جب اس کے ساتھ تلاوت بھی ہو۔
- مال کی قدر اس وقت ہے جب اسے حق میں خرچ کیا جائے۔
- نیکی دیکھ کر ویسی نیکی کی خواہش کرنا اچھا جذبہ ہے۔
- حدیث میں قرآن اور صحیح خرچ دونوں کو قابل رشک عمل بتایا گیا ہے۔
