صحیح بخاری حدیث ۷۵۲۷ - قرآن کو خوش آوازی سے پڑھنے کی فضیلت

قرآن کی تلاوت خوش آوازی سے پڑھنے کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۲۷

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ مِنَّا مَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ " وَزَادَ غَيْرُهُ يَجْهَرُ بِهِ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو خوش آوازی سے قرآن نہیں پڑھتا وہ ہم مسلمانوں کے طریق پر نہیں ہے۔“ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے سوا دوسرے لوگوں نے اس حدیث میں اتنا زیادہ کیا ہے یعنی اس کو پکار کر نہ پڑھے۔

صحیح بخاری حدیث ۷۵۲۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں قرآن کی تلاوت کے ایک اہم ادب کا ذکر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوش آوازی سے قرآن نہیں پڑھتا وہ مسلمانوں کے طریق پر نہیں ہے۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ اسے پکار کر پڑھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن پڑھنا صرف الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں، بلکہ تلاوت قرآن میں حسن صوت، توجہ اور ادب بھی شامل ہیں۔ خوش آوازی کا مطلب یہ نہیں کہ تلاوت کو بے قاعدہ انداز میں بدل دیا جائے، بلکہ حدیث کے الفاظ کے مطابق قرآن کو اچھے انداز سے پڑھنے کی ترغیب ہے۔ یہ حدیث قاری کو یاد دلاتی ہے کہ قرآن کی آواز دل پر اثر ڈالنے والی، صاف اور باوقار ہونی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قرآن کو اچھے اور صاف لہجے میں پڑھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
  • تلاوت قرآن میں آواز کا حسن ایک پسندیدہ وصف ہے۔
  • قرآن پڑھتے وقت بے توجہی کے بجائے دل لگا کر پڑھنا چاہیے۔
  • روایت میں جہر کے ساتھ پڑھنے کا ذکر بھی آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں