صحیح بخاری حدیث ۷۵۲۶ - دعا میں درمیانی آواز کا ادب
دعا کی حدیث: دعا میں درمیانی آواز اختیار کرنا
صحیح بخاری : ۷۵۲۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۲۶
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 فِي الدُّعَاءِ " .
عائشہ روایت:
آیت «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» دعا کے بارے میں نازل ہوئی، یعنی دعا نہ بہت چلا کر مانگ نہ آہستہ بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کر۔
صحیح بخاری حدیث ۷۵۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی سبق دعا کا ادب ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آیت ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها دعا کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس کا مطلب یہ بتایا گیا کہ دعا نہ بہت زور سے مانگی جائے اور نہ اتنی آہستہ کہ آواز دب جائے، بلکہ درمیانی راستہ اختیار کیا جائے۔ عام فہم انداز میں یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ دعا میں سکون، اعتدال اور ادب ہونا چاہیے۔ دعا اللہ سے مانگی جاتی ہے، اس لیے اس میں آواز کا توازن بھی اہم ہے۔ اس حدیث سے یہی بات ملتی ہے کہ دعا کے آداب میں درمیانی آواز پسندیدہ طریقہ ہے، نہ شور، نہ حد سے زیادہ پستی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعا مانگتے وقت آواز میں اعتدال رکھا جائے۔
- دعا بہت چلا کر مانگنا اس حدیث کے مطابق مناسب انداز نہیں۔
- دعا اتنی آہستہ بھی نہ ہو کہ آواز بالکل دب جائے۔
- دعا کے عمل میں ادب اور سکون نمایاں ہونا چاہیے۔
