صحیح بخاری حدیث ۷۵۲۵ - نماز میں قرأت کی آواز کا درمیانی طریقہ

نماز میں قرأت کی آواز: بلند اور آہستہ کے درمیان راستہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۲۵

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ ، عَنْ هُشَيْمٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 ، قَالَ : نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مختف بمكة ، فكان إذا صلى بأصحابه رفع صوته بالقرآن ، فإذا سمعه المشركون سبوا القرآن ومن أنزله ومن جاء به ، فقال الله لنبيه صلى الله عليه وسلم : وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110 أي بقراءتك فيسمع المشركون فيسبوا القرآن وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110 .

عبداللہ بن عباس روایت:

´مجھ سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، ان سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے` اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها‏» کے بارے میں کہ یہ آیت جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ کر (اعمال اسلام ادا کرتے تھے) لیکن جب اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تو قرآن مجید بلند آواز سے پڑھتے، جب مشرکین سنتے تو قرآن مجید کو، اس کے اتارنے والے کو اور اسے لے کر آنے والے کو گالی دیتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اپنی قرآت میں آواز بلند نہ کریں کہ مشرکین سنین اور پھر قرآن کو گالی دیں اور نہ اتنا آہستہ ہی پڑھیں کہ آپ کے صحابہ بھی نہ سن سکیں بلکہ ان کے درمیان کا راستہ اختیار کریں۔

صحیح بخاری حدیث ۷۵۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع نماز میں قرأت کی آواز ہے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «ولا تجهر بصلاتك ولا تخافت بها» کی تشریح میں بتایا کہ یہ حکم اس وقت نازل ہوا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں چھپ کر اسلام کے اعمال ادا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو نماز پڑھاتے تو قرآن بلند آواز سے پڑھتے۔ مشرکین اسے سنتے تو قرآن، اسے نازل کرنے والے، اور اسے لانے والے کو برا کہتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ قرأت اتنی بلند نہ کریں کہ مشرکین سن کر قرآن کو برا کہیں، اور اتنی آہستہ بھی نہ کریں کہ صحابہ سن ہی نہ سکیں۔ اس حدیث میں نماز میں قرآن پڑھنے کا ایک صاف اصول ملتا ہے: آواز میں اعتدال رکھا جائے۔ نہ غیر ضروری بلند آواز، نہ ایسی پست آواز کہ مقتدی فائدہ نہ اٹھا سکیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں قرأت کی آواز حالات کے مطابق مناسب رکھی جائے۔
  • قرآن کی تلاوت میں ایسا انداز اختیار کیا جائے جس سے سننے والوں کو فائدہ ہو۔
  • دین کے کام میں کبھی درمیانی راستہ اختیار کرنا بہتر ہوتا ہے۔
  • ایسی بلند آواز سے بچنا چاہیے جس سے مخالفین قرآن کی بے ادبی کا سبب بنیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں