صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۸ - احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کر دوں
صدقہ کی حدیث: احد پہاڑ کے برابر سونا بھی خرچ کرنے کی خواہش
صحیح بخاری : ۱۴۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۰۸
قَالَ لِي خَلِيلِي : قَالَ : قُلْتُ : مَنْ خَلِيلُكَ ؟ , قَالَ : النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَتُبْصِرُ أُحُدًا ؟ , قَالَ : فَنَظَرْتُ إِلَى الشَّمْسِ مَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ وَأَنَا أُرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرْسِلُنِي فِي حَاجَةٍ لَهُ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ إِلَّا ثَلَاثَةَ دَنَانِيرَ ، وَإِنَّ هَؤُلَاءِ لَا يَعْقِلُونَ إِنَّمَا يَجْمَعُونَ الدُّنْيَا ، لَا وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينٍ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ " .
´مجھ سے میرے خلیل نے کہا تھا میں نے پوچھا کہ آپ کے خلیل کون ہیں؟ جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اے ابوذر! کیا احد پہاڑ تو دیکھتا ہے۔ ابوذر رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ` اس وقت میں نے سورج کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا کہ کتنا دن ابھی باقی ہے۔ کیونکہ مجھے (آپ کی بات سے) یہ خیال گزرا کہ آپ اپنے کسی کام کے لیے مجھے بھیجیں گے۔ میں نے جواب دیا کہ جی ہاں (احد پہاڑ میں نے دیکھا ہے) آپ نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو میں اس کے سوا دوست نہیں رکھتا کہ صرف تین دینار بچا کر باقی تمام کا تمام (اللہ کے راستے میں) دے ڈالوں (ابوذر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا کہ) ان لوگوں کو کچھ معلوم نہیں یہ دنیا جمع کرنے کی فکر کرتے ہیں۔ ہرگز نہیں اللہ کی قسم نہ میں ان کی دنیا ان سے مانگتا ہوں اور نہ دین کا کوئی مسئلہ ان سے پوچھتا ہوں تاآنکہ میں اللہ تعالیٰ سے جا ملوں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوذر رضی اللہ عنہ اپنے خلیل یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ کیا تم احد پہاڑ دیکھتے ہو؟ پھر فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو تو میں یہ پسند نہیں کرتا کہ اسے اپنے پاس رکھوں، بلکہ تین دینار کے سوا سب اللہ کے راستے میں خرچ کر دوں۔ اس کے بعد ابوذر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو دنیا جمع کرتے رہتے ہیں۔ اس حدیث میں صدقہ، مال سے بے رغبتی اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا جذبہ صاف نظر آتا ہے۔ متن ہمیں یہ نہیں کہتا کہ ہر شخص کے لیے ایک ہی صورت لازم ہے، مگر یہ ضرور بتاتا ہے کہ مال جمع کرنے کی فکر انسان کو دھوکے میں ڈال سکتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مال جمع کرنا پسند نہ تھا۔
- اللہ کے راستے میں خرچ کرنا مال کے بہتر استعمال میں شامل ہے۔
- دنیا جمع کرنے کی فکر انسان کو اصل مقصد سے ہٹا سکتی ہے۔
- ابوذر رضی اللہ عنہ نے مال کے معاملے میں بہت صاف موقف بیان کیا۔
