صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۰ - حلال کمائی کے صدقہ کی فضیلت

حلال کمائی کا صدقہ: ایک کھجور بھی پہاڑ جیسی ہو سکتی ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۱۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ ، سَمِعَ أَبَا النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ , وَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ ، ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهِ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ " تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ ، عَنْ ابْنِ دِينَارٍ ، وَقَالَ وَرْقَاءُ : عَنِ ابْنِ دِينَار ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَزَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , وَسُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے اور اللہ تعالیٰ صرف حلال کمائی کے صدقہ کو قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے قبول کرتا ہے پھر صدقہ کرنے والے کے فائدے کے لیے اس میں زیادتی کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہے تاآنکہ اس کا صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔عبدالرحمٰن کے ساتھ اس روایت کی متابعت سلیمان نے عبداللہ بن دینار کی روایت سے کی ہے اور ورقاء نے ابن دینار سے کہا ‘ ان سے سعید بن یسار نے ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور اس کی روایت مسلم بن ابی مریم ‘ زید بن اسلم اور سہیل نے ابوصالح سے کی ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلال کمائی سے صدقہ کرنے کی فضیلت بیان فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حلال کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کرے، اور اللہ صرف پاکیزہ کمائی کو قبول کرتا ہے، تو اللہ اسے قبول فرماتا ہے اور صدقہ کرنے والے کے لیے اسے بڑھاتا ہے۔ حدیث میں اس بڑھنے کی مثال ایسے دی گئی جیسے کوئی اپنے جانور کے بچے کو پال کر بڑا کرتا ہے، یہاں تک کہ صدقہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ کی قیمت صرف مقدار سے نہیں، کمائی کی پاکیزگی اور اللہ کی قبولیت سے بھی جڑی ہے۔ چھوٹا صدقہ بھی اہم ہے جب وہ حلال مال سے دیا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ پاکیزہ اور حلال کمائی کا صدقہ قبول فرماتا ہے۔
  • صدقہ مقدار میں چھوٹا ہو تو بھی اہم ہو سکتا ہے۔
  • حلال کمائی صدقہ کے قبول ہونے سے جڑی ہوئی ہے۔
  • نیکی کو اللہ اپنے فضل سے بڑھا دیتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں