صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۷ - کھجور کے ٹکڑے سے جہنم سے بچو
کھجور کے ٹکڑے کا صدقہ: چھوٹی نیکی کو کم نہ سمجھو
صحیح بخاری : ۱۴۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۱۷
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ , قَالَ : سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " .
عدی بن حاتم روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ جہنم سے بچو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی (مگر ضرور صدقہ کر کے دوزخ کی آگ سے بچنے کی کوشش کرو)۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۷ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے مگر اس کا پیغام بہت گہرا اور آسان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا دے کر ہی سہی۔ اس میں صدقہ کی مقدار کم ہونے کے باوجود عمل کی اہمیت بتائی گئی ہے۔ ہر شخص بڑے مال کا مالک نہیں ہوتا، مگر چھوٹی نیکی کا دروازہ بہت سے لوگوں کے لیے کھلا رہتا ہے۔ آدھی کھجور یا ایک ٹکڑا بھی کسی محتاج کے لیے فائدہ بن سکتا ہے، اور دینے والے کے لیے نیکی کا سبب۔ اس حدیث سے یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق بھلائی کرنی چاہیے۔ کم مال کو بہانہ بنا کر نیکی چھوڑ دینا درست سوچ نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- چھوٹا صدقہ بھی نیکی کے کام میں شامل ہے۔
- جہنم سے بچنے کے لیے اپنی طاقت کے مطابق صدقہ کرنا چاہیے۔
- کھجور کا ٹکڑا بھی صدقہ ہو سکتا ہے۔
- کم مال نیکی چھوڑنے کا عذر نہیں بننا چاہیے۔
