صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۶ - صحابہ کا محنت کر کے صدقہ کرنا
محنت کر کے صدقہ کرنے کی حدیث: ایک مد بھی قیمتی تھا
صحیح بخاری : ۱۴۱۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۱۶
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ : " كَان رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ انْطَلَقَ أَحَدُنَا إِلَى السُّوقِ فَتَحَامَلَ فَيُصِيبُ الْمُدَّ ، وَإِنَّ لِبَعْضِهِمُ الْيَوْمَ لَمِائَةَ أَلْفٍ " .
ابومسعود انصاری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ہم میں سے بہت سے بازار جا کر بوجھ اٹھانے کی مزدوری کرتے اور اس طرح ایک مد (غلہ یا کھجور وغیرہ) حاصل کرتے۔ (جسے صدقہ کر دیتے) لیکن آج ہم میں سے بہت سوں کے پاس لاکھ لاکھ (درہم یا دینار) موجود ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۶ کا خلاصہ
اس روایت میں ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کا حکم دیتے تو صحابہ میں سے کوئی بازار جاتا، بوجھ اٹھانے کی مزدوری کرتا اور ایک مد حاصل کرتا، پھر اسے صدقہ کر دیتا۔ یہ بات بہت سادہ مگر بہت اثر والی ہے۔ صدقہ صرف مالدار کے لیے نہیں، بلکہ جس کے پاس تھوڑا ہو وہ بھی اپنی طاقت کے مطابق حصہ لے سکتا ہے۔ حدیث کے آخر میں ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا کہ آج ان میں سے بعض کے پاس لاکھ لاکھ موجود ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حالات بدلتے رہتے ہیں، مگر صدقہ کا جذبہ ہر حال میں اہم رہتا ہے۔ کم مال میں دیا گیا صدقہ بھی محنت اور اخلاص کی وجہ سے قابل قدر ہو سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ رضی اللہ عنہم محنت کر کے بھی صدقہ دیتے تھے۔
- صدقہ صرف زیادہ مال سے وابستہ نہیں ہے۔
- اپنی طاقت کے مطابق دینا بھی نیکی ہے۔
- مال کے حالات بدل سکتے ہیں، مگر دینے کا جذبہ باقی رہنا چاہیے۔
