صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۱ - صدقہ کرنے میں دیر نہ کرو

صدقہ کرنے کی حدیث: آج موقع ہے، کل لینے والا نہ ملے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۱۱

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ : سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ , قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : "تَصَدَّقُوا ، فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يَمْشِي الرَّجُلُ بِصَدَقَتِهِ فَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا ، يَقُولُ الرَّجُلُ : لَوْ جِئْتَ بِهَا بِالْأَمْسِ لَقَبِلْتُهَا ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا حَاجَةَ لِي بِهَا " .

حارثہ بن وہب روایت:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ صدقہ کرو ‘ ایک ایسا زمانہ بھی تم پر آنے والا ہے جب ایک شخص اپنے مال کا صدقہ لے کر نکلے گا اور کوئی اسے قبول کرنے والا نہیں پائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہ کرو، کیونکہ ایک زمانہ ایسا آئے گا جب آدمی اپنا صدقہ لے کر نکلے گا مگر کوئی قبول کرنے والا نہیں ملے گا۔ لینے والا کہے گا کہ اگر تم کل لاتے تو میں لے لیتا، آج مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ اس حدیث کا پیغام بہت سادہ ہے کہ نیکی کے موقع کو ضائع نہ کیا جائے۔ جب انسان کے پاس مال ہو، ضرورت مند بھی موجود ہو، اور دینے کی طاقت بھی ہو تو صدقہ کر لینا چاہیے۔ صدقہ کی حدیث ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ آج کسی کی مدد کا موقع ہے، کل وہ موقع باقی نہ بھی رہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ کرنے میں بلا وجہ تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
  • نیکی کا موقع ملے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیے۔
  • ایک وقت ایسا آئے گا جب صدقہ لینے والا نہ ملے گا۔
  • مال کے استعمال میں وقت کی اہمیت بھی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں