صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۲ - قیامت سے پہلے مال کی کثرت

قیامت کی نشانی: مال اتنا ہو گا کہ زکوٰۃ لینے والا نہ ملے گا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۱۲

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَال : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَكْثُرَ فِيكُمُ الْمَالُ فَيَفِيضَ ، حَتَّى يُهِمَّ رَبَّ الْمَالِ مَنْ يَقْبَلُ صَدَقَتَهُ ، وَحَتَّى يَعْرِضَهُ ، فَيَقُولَ الَّذِي يَعْرِضُهُ عَلَيْهِ لَا أَرَبَ لِي " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت آنے سے پہلے مال و دولت کی اس قدر کثرت ہو جائے گی اور لوگ اس قدر مالدار ہو جائیں گے کہ اس وقت صاحب مال کو اس کی فکر ہو گی کہ اس کی زکوٰۃ کون قبول کرے اور اگر کسی کو دینا بھی چاہے گا تو اس کو یہ جواب ملے گا کہ مجھے اس کی حاجت نہیں ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک مال بہت زیادہ نہ ہو جائے اور لوگوں میں اس کی کثرت نہ ہو جائے۔ یہاں تک کہ صاحب مال کو فکر ہو گی کہ اس کی زکوٰۃ کون قبول کرے۔ جب وہ کسی کو دینا چاہے گا تو وہ کہے گا کہ مجھے اس کی حاجت نہیں۔ یہ حدیث زکوٰۃ اور قیامت کی نشانی دونوں پہلو بیان کرتی ہے۔ اس میں مال کی کثرت کا ذکر ہے، مگر ساتھ ہی یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ صدقہ اور زکوٰۃ کا وقت آنے سے پہلے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ جب دینے والا موجود ہو اور لینے والا محتاج ہو، تب مال کا حق ادا کرنا زیادہ آسان ہوتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت سے پہلے مال کی کثرت کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
  • ایک وقت ایسا ہو گا کہ زکوٰۃ لینے والا نہیں ملے گا۔
  • صاحب مال کو اپنے مال کے حق کی فکر کرنی چاہیے۔
  • موقع ملنے پر زکوٰۃ اور صدقہ ادا کرنا بہتر ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں