صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۴ - سونے کا صدقہ بھی لینے والا نہ ملے گا
قیامت کی نشانی: سونے کا صدقہ لینے والا بھی نہ ملے گا
صحیح بخاری : ۱۴۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۱۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ بُرَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بِالصَّدَقَةِ مِنَ الذَّهَبِ ، ثُمَّ لَا يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ ، وَيُرَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً يَلُذْنَ بِهِ مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ وَكَثْرَةِ النِّسَاءِ " .
ابوموسیٰ اشعری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ضرور ایک زمانہ ایسا آ جائے گا کہ ایک شخص سونے کا صدقہ لے کر نکلے گا لیکن کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا اور یہ بھی ہو گا کہ ایک مرد کی پناہ میں چالیس چالیس عورتیں ہو جائیں گی کیونکہ مردوں کی کمی ہو جائے گی اور عورتوں کی زیادتی ہو گی۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ ضرور آئے گا جب ایک شخص سونے کا صدقہ لے کر نکلے گا، مگر کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔ حدیث میں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک مرد کے پیچھے چالیس عورتیں پناہ لینے والی ہوں گی، کیونکہ مرد کم اور عورتیں زیادہ ہو جائیں گی۔ اس روایت میں دو باتیں آئیں: مال کی ایسی کثرت کہ صدقہ لینے والا نہ ملے، اور مردوں کی کمی کے مقابلے میں عورتوں کی زیادتی۔ اس سے صدقہ کی اہمیت بھی سمجھ آتی ہے کہ جب ضرورت مند موجود ہوں تو دینے میں دیر نہ کی جائے۔ مال کا موقع، صحت کا وقت، اور ضرورت مند کا ملنا سب اللہ کی طرف سے آزمائش ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ سونے کا صدقہ بھی لینے والا نہ ملے گا۔
- صدقہ کرنے کا موقع ملے تو اسے ضائع نہ کیا جائے۔
- حدیث میں مردوں کی کمی اور عورتوں کی زیادتی کا ذکر آیا ہے۔
- مال کی کثرت انسان کو جواب دہی سے بے نیاز نہیں کرتی۔
