صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۷ - خزانہ جمع کرنے والوں کے لیے تنبیہ
مال جمع کرنے کی حدیث: خزانہ رکھنے والوں کے لیے سخت تنبیہ
صحیح بخاری : ۱۴۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۰۷
حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ , قَالَ : جَلَسْتُ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعَلَاءِ بْنُ الشِّخِّيرِ ، أَنَّ الْأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ حَدَّثَهُمْ ، قَالَ : " جَلَسْتُ إِلَى مَلَإٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَجَاءَ رَجُلٌ خَشِنُ الشَّعَرِ وَالثِّيَابِ وَالْهَيْئَةِ حَتَّى قَامَ عَلَيْهِمْ فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِرَضْفٍ يُحْمَى عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ ، ثُمَّ يُوضَعُ عَلَى حَلَمَةِ ثَدْيِ أَحَدِهِمْ ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ نُغْضِ كَتِفِهِ وَيُوضَعُ عَلَى نُغْضِ كَتِفِهِ ، حَتَّى يَخْرُجَ مِنْ حَلَمَةِ ثَدْيِهِ يَتَزَلْزَلُ ، ثُمَّ وَلَّى فَجَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ وَتَبِعْتُهُ وَجَلَسْتُ إِلَيْهِ وَأَنَا لَا أَدْرِي مَنْ هُوَ ، فَقُلْتُ لَهُ : لَا أُرَى الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَرِهُوا الَّذِي قُلْتَ , قَالَ : إِنَّهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا .
احنف بن قیس روایت:
میں بیٹھا تھا (دوسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالصمد بن عبدالوارث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے سعید جریری نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابوالعلاء بن شخیر نے بیان کیا ‘ ان سے احنف بن قیس نے بیان کیا کہ میں قریش کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔اتنے میں سخت بال ‘ موٹے کپڑے اور موٹی جھوٹی حالت میں ایک شخص آیا اور کھڑے ہو کر سلام کیا اور کہا کہ خزانہ جمع کرنے والوں کو اس پتھر کی بشارت ہو جو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا اور اس کی چھاتی کی بھٹنی پر رکھ دیا جائے گا جو مونڈھے کی طرف سے پار ہو جائے گا۔ اس طرح وہ پتھر برابر ڈھلکتا رہے گا۔ یہ کہہ کر وہ صاحب چلے گئے اور ایک ستون کے پاس ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ میں بھی ان کے ساتھ چلا اور ان کے قریب بیٹھ گیا۔ اب تک مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کون صاحب ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی بات قوم نے پسند نہیں کی۔ انہوں نے کہا یہ سب تو بیوقوف ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۷ کا خلاصہ
اس روایت میں احنف بن قیس بیان کرتے ہیں کہ وہ قریش کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ ایک شخص آیا، اس کی حالت سادہ اور سخت تھی۔ اس نے سلام کیا اور کہا کہ خزانہ جمع کرنے والوں کو ایسے پتھر کی خبر دے دو جو جہنم کی آگ میں تپایا جائے گا، پھر اسے سینے پر رکھا جائے گا اور وہ کندھے کی طرف سے پار ہو گا، پھر کندھے کی طرف رکھا جائے گا اور سینے کی طرف سے نکلے گا۔ یہ بات سن کر وہ چلے گئے اور ایک ستون کے پاس بیٹھ گئے۔ احنف بن قیس ان کے پاس گئے اور کہا کہ لوگوں نے آپ کی بات پسند نہیں کی۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ لوگ کچھ نہیں سمجھتے۔ اس حدیث میں مال جمع کرنے کی عادت پر سخت ڈرایا گیا ہے، خاص طور پر جب مال کا حق ادا نہ کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خزانہ جمع کرنے والوں کے لیے سخت تنبیہ بیان ہوئی ہے۔
- مال کے حق سے غفلت آخرت کی پکڑ کا سبب بن سکتی ہے۔
- حق بات لوگوں کو ناگوار بھی لگ سکتی ہے۔
- دنیا کے مال پر بے فکر ہونا محفوظ راستہ نہیں۔
