صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۶ - سونا چاندی جمع کرنے پر صحابی کا موقف

سونا چاندی جمع کرنے کی حدیث: مال کے حق پر ابوذر رضی اللہ عنہ کی بات

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۴۰۶

حَدَّثَنَا عَلِيُّ ، سَمِعَ هُشَيْمًا ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ , قَالَ : " مَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ فَإِذَا أَنَا بِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقُلْتُ لَهُ : مَا أَنْزَلَكَ مَنْزِلكَ هَذَا ؟ , قَالَ : كُنْتُ بِالشَّأْمِ فَاخْتَلَفْتُ أَنَا وَمُعَاوِيَةُ فِي الَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ , وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ مُعَاوِيَةُ : نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الْكِتَابِ , فَقُلْتُ : نَزَلَتْ فِينَا وَفِيهِمْ ، فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فِي ذَاكَ ، وَكَتَبَ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَشْكُونِي ، فَكَتَبَ إِلَيَّ عُثْمَانُ أَنِ اقْدَمِ الْمَدِينَةَ فَقَدِمْتُهَا ، فَكَثُرَ عَلَيَّ النَّاسُ حَتَّى كَأَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْنِي قَبْلَ ذَلِكَ ، فَذَكَرْتُ ذَاكَ لِعُثْمَانَ , فَقَالَ لِي : إِنْ شِئْتَ تَنَحَّيْتَ فَكُنْتَ قَرِيبًا فَذَاكَ الَّذِي أَنْزَلَنِي هَذَا الْمَنْزِلَ ، وَلَوْ أَمَّرُوا عَلَيَّ حَبَشِيًّا لَسَمِعْتُ وَأَطَعْتُ " .

زید بن وہب روایت:

میں مقام ربذہ سے گزر رہا تھا کہ ابوذر رضی اللہ عنہ دکھائی دیئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں آ گئے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں شام میں تھا تو معاویہ رضی اللہ عنہ سے میرا اختلاف (قرآن کی آیت) ”جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے“ کے متعلق ہو گیا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کا کہنا یہ تھا کہ یہ آیت اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور میں یہ کہتا تھا کہ اہل کتاب کے ساتھ ہمارے متعلق بھی یہ نازل ہوئی ہے۔ اس اختلاف کے نتیجہ میں میرے اور ان کے درمیان کچھ تلخی پیدا ہو گئی۔ چنانچہ انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ (جو ان دنوں خلیفۃ المسلمین تھے) کے یہاں میری شکایت لکھی۔عثمان رضی اللہ عنہ نے مجھے لکھا کہ میں مدینہ چلا آؤں۔ چنانچہ میں چلا آیا۔ (وہاں جب پہنچا) تو لوگوں کا میرے یہاں اس طرح ہجوم ہونے لگا جیسے انہوں نے مجھے پہلے دیکھا ہی نہ ہو۔ پھر جب میں نے لوگوں کے اس طرح اپنی طرف آنے کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا تو انہوں نے فرمایا کہ اگر مناسب سمجھو تو یہاں کا قیام چھوڑ کر مدینہ سے قریب ہی کہیں اور جگہ الگ قیام اختیار کر لو۔ یہی بات ہے جو مجھے یہاں (ربذہ) تک لے آئی ہے۔ اگر وہ میرے اوپر ایک حبشی کو بھی امیر مقرر کر دیں تو میں اس کی بھی سنوں گا اور اطاعت کروں گا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۴۰۶ کا خلاصہ

اس روایت میں ابوذر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ شام میں ان کا معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں اختلاف ہوا جس میں سونا اور چاندی جمع کرنے اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کا ذکر ہے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ یہ اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی، جبکہ ابوذر رضی اللہ عنہ اسے اہل کتاب کے ساتھ مسلمانوں کے بارے میں بھی سمجھتے تھے۔ پھر معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ تک پہنچا اور ابوذر رضی اللہ عنہ مدینہ آئے۔ بعد میں وہ ربذہ میں رہنے لگے۔ آخر میں انہوں نے اطاعت کی بات بھی کی کہ اگر ان پر حبشی امیر مقرر کر دیا جائے تو وہ سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔ اس روایت میں مال کے حق، آیت کی سمجھ اور امیر کی اطاعت کا پہلو آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کی آیات کو سنجیدگی سے سمجھتے تھے۔
  • سونا چاندی جمع کرنے اور خرچ نہ کرنے کا معاملہ اہم سمجھا گیا۔
  • اختلاف کے باوجود امیر کی اطاعت کا اصول بیان ہوا۔
  • مال کے بارے میں جواب دہی کا احساس صحابہ کے کلام میں نمایاں ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں