صحیح بخاری حدیث ۶۰۵۸ - دو رخے آدمی کی حدیث

دو رخا پن: قیامت کے دن بدترین لوگوں کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۵۸

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَجِدُ مِنْ شَرِّ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ اللَّهِ ذَا الْوَجْهَيْنِ ، الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهٍ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اللہ کے ہاں اس شخص کو سب سے بدتر پاؤ گے جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۵۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو رخے پن کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اللہ کے ہاں اس شخص کو بدترین لوگوں میں پاؤ گے جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے آتا ہے اور دوسروں کے سامنے دوسرے رخ سے جاتا ہے۔ یعنی ایک مجلس میں کچھ اور، دوسری مجلس میں کچھ اور بن جانا، لوگوں کو خوش کرنے کے لیے اپنا موقف بدل لینا، یا ہر طرف الگ چہرہ دکھانا بہت بری عادت ہے۔ یہ حدیث سچائی، صاف گوئی اور کردار کی یکسانی کا سبق دیتی ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ دوغلی باتوں، منافقانہ انداز اور لوگوں کے درمیان فتنہ پیدا کرنے والے رویے سے بچے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دو رخا پن اللہ کے نزدیک بہت برا عمل ہے۔
  • ایک مجلس میں ایک بات اور دوسری میں دوسری بات کرنا خطرناک عادت ہے۔
  • مسلمان کو صاف گو اور سچا ہونا چاہیے۔
  • لوگوں کو خوش کرنے کے لیے حق بدلنا درست نہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں