صحیح بخاری حدیث ۶۰۵۶ - چغل خور کے بارے میں سخت وعید

چغل خور جنت میں نہیں جائے گا: نمیمہ کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۵۶

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ حُذَيْفَةَ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ رَجُلًا يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى عُثْمَانَ ، فَقَالَ لَهُ حُذَيْفَةُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَتَّاتٌ " .

ہمام بن حارث روایت:

ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، ان سے کہا گیا کہ ایک شخص ایسا ہے جو یہاں کی باتیں عثمان سے جا لگاتا ہے۔ اس پر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ جنت میں چغل خور نہیں جائے گا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۰۵۶ کا خلاصہ

یہ حدیث چغلی کے بارے میں بہت سخت تنبیہ دیتی ہے۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس ذکر ہوا کہ ایک شخص یہاں کی باتیں عثمان رضی اللہ عنہ تک پہنچاتا ہے۔ اس پر حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا فرمان سنایا کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔ چغلی کا مطلب یہ ہے کہ ایک جگہ کی بات دوسری جگہ اس طرح پہنچائی جائے کہ لوگوں میں خرابی، شک یا لڑائی پیدا ہو۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں مگر پیغام بہت صاف ہے: زبان کا غلط استعمال انسان کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے درمیان صلح، خیر اور بھلائی کی بات کرے، فساد پھیلانے والی باتیں نہ لے کر پھرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • چغلی کرنا سخت منع ہے۔
  • لوگوں کی باتیں فساد کے لیے آگے پہنچانا خطرناک عمل ہے۔
  • زبان کا استعمال خیر کے لیے ہونا چاہیے۔
  • مسلمان کو لوگوں کے درمیان خرابی نہیں پھیلانی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں