صحیح بخاری حدیث ۷۵۳۸ - روزہ میرے لیے ہے اور میں جزا دوں گا
روزے کی حدیث: الصوم لي وأنا أجزي به
صحیح بخاری : ۷۵۳۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۳۸
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ ، عَنْ رَبِّكُمْ ، قَالَ : " لِكُلِّ عَمَلٍ كَفَّارَةٌ ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ " .
ابوہریرہ روایت:
´ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن زیاد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا` ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ پروردگار نے فرمایا ہر گناہ کا ایک کفارہ ہے (جس سے وہ گناہ معاف ہو جاتا ہے) اور روزہ خاص میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا اور روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بڑھ کر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۷۵۳۸ کا خلاصہ
اس حدیث قدسی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ہر عمل کا کفارہ ہے، اور روزہ خاص میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ پھر فرمایا گیا کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بڑھ کر ہے۔ اس حدیث کا موضوع روزہ کی فضیلت ہے۔ یہاں روزہ کو خاص طور پر اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، جو اس عبادت کی خاص قدر ظاہر کرتا ہے۔ حدیث میں روزہ دار کی وہ حالت بھی قابل قدر بتائی گئی ہے جو دنیا میں عام طور پر معمولی سمجھی جاتی ہے۔ اس سے روزے کی باطنی قدر واضح ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روزہ اللہ کے لیے خاص عبادت کے طور پر بیان ہوا ہے۔
- روزے کی جزا اللہ خود دینے کا ذکر فرماتا ہے۔
- روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک محبوب بتائی گئی ہے۔
- حدیث روزے کی ظاہری مشقت کے پیچھے اس کی قدر دکھاتی ہے۔
