صحیح بخاری حدیث ۷۵۳۹ - یونس بن متیؑ کے بارے میں ادب

انبیاء کے ادب کی حدیث: یونس بن متیؑ سے بہتر نہ کہنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۵۳۹

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ . ح وقَالَ لِي خَلِيفَةُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ ، عَنْ رَبِّهِ ، قَالَ : " لَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنَّهُ خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى ، وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ " .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے روایت کیا پروردگار نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ یہ کہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں اور آپ نے یونس علیہ السلام کو ان کے باپ کی طرف نسبت دی۔

صحیح بخاری حدیث ۷۵۳۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب سے روایت کرتے ہیں کہ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ روایت میں یہ بھی آیا کہ آپ نے یونس علیہ السلام کو ان کے والد کی طرف نسبت دی۔ اس حدیث کا موضوع انبیاء کا ادب ہے۔ اس میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کے نبیوں کے بارے میں زبان کو سنبھال کر استعمال کیا جائے۔ کسی نبی کے مقابلے میں اپنے آپ کو بہتر کہنا مناسب نہیں۔ حدیث کا پیغام مختصر مگر بہت اہم ہے: انبیاء علیہم السلام کا مقام اللہ کے نزدیک ہے، اس لیے ان کے ذکر میں ادب لازم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • یونس بن متی علیہ السلام کے بارے میں بے ادبی والا انداز اختیار نہ کیا جائے۔
  • کسی بندے کو اپنے آپ کو نبی سے بہتر کہنا مناسب نہیں۔
  • انبیاء علیہم السلام کے ذکر میں ادب ضروری ہے۔
  • حدیث میں یونس علیہ السلام کو ان کے والد کی طرف نسبت دی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں