صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۲ - یونس علیہ السلام کے بارے میں ادب
یونس علیہ السلام کا ادب: میں یونس سے بہتر ہوں نہ کہو
صحیح بخاری : ۳۴۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۱۲
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، ح حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ زَادَ مُسَدَّدٌ : يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص میرے متعلق یہ نہ کہے کہ میں یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔“ مسدد نے یونس بن متی علیہ السلام کے لفظ بڑھا کر روایت کیا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص میرے متعلق یہ نہ کہے کہ میں یونس علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ یہ جملہ انبیاء علیہم السلام کے ادب کی بہت صاف تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اپنی جگہ بہت بلند ہے، مگر آپ نے اپنی امت کو ایسا انداز اختیار کرنے سے روکا جس میں کسی نبی کے بارے میں کمی یا بے ادبی کا پہلو نکلے۔ حدیث کا اصل مقصد یہ ہے کہ انبیاء کے درمیان گفتگو کرتے وقت زبان کو سنبھالا جائے۔ خاص طور پر یونس بن متی علیہ السلام کا نام لے کر یہ تعلیم دی گئی کہ اللہ کے نبیوں کے بارے میں مقابلہ بازی والی زبان مناسب نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء علیہم السلام کے نام ادب سے لینے چاہییں۔
- کسی نبی کی شان میں کمی کا تاثر دینے والی بات سے بچنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی امت کو زبان کی احتیاط سکھائی۔
- دینی فضائل بیان کرتے وقت بھی ادب ضروری ہے۔
