صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۳ - یونس بن متی علیہ السلام کی شان کا خیال

یونس بن متی علیہ السلام کی حدیث اور زبان کی احتیاط

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۱۳

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ إِنِّي خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى وَنَسَبَهُ إِلَى أَبِيهِ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی سے بہتر قرار دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد کی طرف منسوب کر کے ان کا نام لیا تھا۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ یہاں اصل سبق انبیاء علیہم السلام کا ادب ہے۔ حدیث میں یونس علیہ السلام کو ان کے والد کی طرف منسوب کر کے ذکر کیا گیا، جس سے نام کی پہچان بھی واضح ہوتی ہے۔ اس متن سے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ دینی بات کرتے ہوئے الفاظ بہت سوچ کر استعمال کرنے چاہییں۔ نبیوں کے فضائل بیان کرنا درست ہے، مگر ایسا انداز نہ ہو جس سے دوسرے نبی کی قدر کم لگے۔ اللہ کے تمام نبی عزت والے ہیں، اس لیے زبان میں نرمی اور ادب رہنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انبیاء علیہم السلام کے بارے میں الفاظ احتیاط سے بولنے چاہییں۔
  • یونس بن متی علیہ السلام کا نام احترام کے ساتھ آیا ہے۔
  • فضیلت کی بات کرتے ہوئے بے ادبی سے بچنا ضروری ہے۔
  • دینی گفتگو میں زبان کا وزن بہت اہم ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں