صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۱ - انبیاء کے ادب میں یونس علیہ السلام کا ذکر

انبیاء کے ادب کی حدیث: یونس بن متی علیہ السلام کا مقام

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۳۱

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ مجھے یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر بتائے۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں بھی وہی اہم بات آئی ہے کہ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر کہنے کا ایسا انداز اختیار کرے جس میں یونس علیہ السلام کی شان کم ہوتی محسوس ہو۔ حدیث کا موضوع انبیاء کا ادب، یونس علیہ السلام کی عزت، اور زبان کی احتیاط ہے۔ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نبیوں کے بارے میں اپنی رائے یا جذبات کو بے قابو نہ کرے۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کا حصہ ہے، مگر دوسرے انبیاء علیہم السلام کی تعظیم بھی دین کا حصہ ہے۔ اس روایت میں ہمیں یہ سادہ اصول ملتا ہے کہ دین کی بات میں ادب اور حد دونوں ضروری ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یونس علیہ السلام کے بارے میں ادب سکھایا۔
  • محبت کے اظہار میں بھی دوسرے انبیاء کی تعظیم باقی رہنی چاہیے۔
  • دینی گفتگو میں الفاظ کا انتخاب بہت اہم ہے۔
  • انبیاء علیہم السلام کی عزت ایمان کا حصہ ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں