صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۰ - یونس علیہ السلام پر فضیلت کا محتاط بیان
یونس علیہ السلام کی حدیث: انبیاء کے احترام کا سبق
صحیح بخاری : ۴۶۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۳۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ عَمِّ نَبِيِّكُمْ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا يَنْبَغِي لِعَبْدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
ابوالعالیہ روایت:
مجھ سے تمہارے نبی کے چچا زاد بھائی یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر بتائے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۳۰ کا خلاصہ
یہ حدیث انبیاء کے احترام کی حدیث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی بندے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کہے: میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے بارے میں بات کرتے وقت زبان بہت محتاط ہونی چاہیے۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ایسا انداز اختیار کرنے سے روکا جس سے کسی نبی کی شان میں کمی کا پہلو نکلے۔ یونس علیہ السلام کا نام لے کر بات فرمائی گئی، اس لیے وضاحت بھی اسی حد تک رکھنی چاہیے۔ یہ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ فضیلت کے مسائل میں ادب، احتیاط، اور انبیاء کی عزت کو سامنے رکھنا لازم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء علیہم السلام کے بارے میں گفتگو ادب کے ساتھ ہونی چاہیے۔
- کسی نبی کی شان گھٹانے والا انداز اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو الفاظ میں احتیاط سکھائی۔
- فضیلت کی بات کرتے ہوئے ادب کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
