صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۴ - یونس علیہ السلام سے بہتر کہنے کی ممانعت
یونس بن متیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلط دعوے سے بچنا
صحیح بخاری : ۴۶۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۰۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ قَالَ أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى فَقَدْ كَذَبَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص یہ کہتا ہے میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ کہا۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کہتا ہے کہ میں یونس بن متیٰ سے بہتر ہوں، اس نے جھوٹ کہا۔ اس کا اصل پیغام انبیاء کے احترام سے متعلق ہے۔ یونس علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں، اس لیے ان کے بارے میں ایسا انداز اختیار کرنا درست نہیں جو ان کی شان میں کمی کا سبب بنے۔ حدیث ہمیں بات کرنے کا ادب سکھاتی ہے، خاص طور پر جب بات انبیاء علیہم السلام کے بارے میں ہو۔ ایمان والا شخص اپنی زبان کو ایسی باتوں سے بچاتا ہے جن میں بے ادبی، خود بڑائی یا غلط موازنہ پایا جائے۔ یہاں نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک مختصر جملے میں بہت واضح حد بتا دی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یونس بن متیٰ علیہ السلام کے بارے میں بے ادبی والا موازنہ منع ہے۔
- جھوٹی بڑائی یا غلط دعویٰ زبان کی بڑی غلطی بن سکتا ہے۔
- انبیاء علیہم السلام کا احترام ایمان والے کے اخلاق میں شامل ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی بتائی ہوئی حد پر رکنا چاہیے۔
