صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۳ - یونس بن متیٰ علیہ السلام کا ادب
یونس بن متیٰ علیہ السلام کے بارے میں ادب کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۰۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۰۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : "مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ : أَنَا خَيْرٌ مِنْ يُونُسَ بْنِ مَتَّى " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی سے بہتر کہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے بہت صاف الفاظ میں ادب سکھایا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کہے: میں یونس بن متیٰ سے بہتر ہوں۔ اس روایت کا اصل موضوع انبیاء علیہم السلام کا ادب ہے۔ یہاں کسی لمبی بحث کی ضرورت نہیں، کیونکہ حدیث کا پیغام مختصر اور واضح ہے: اللہ کے نبیوں کے بارے میں زبان سنبھال کر بولنی چاہیے۔ یونس علیہ السلام اللہ کے نبی ہیں، اس لیے ان کے بارے میں ایسے الفاظ نہیں کہنے چاہییں جن سے بے ادبی کا پہلو نکلے۔ یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ محبت رسول صلى الله عليه وسلم کے ساتھ ساتھ دوسرے انبیاء کا احترام بھی ضروری ہے۔ فضیلت کی بات بھی ادب کے دائرے میں ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- انبیاء علیہم السلام کے بارے میں زبان کا ادب لازم ہے۔
- یونس بن متیٰ علیہ السلام کا ذکر احترام سے کرنا چاہیے۔
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خود ایسی بات کہنے سے منع فرمایا۔
- محبت اور احترام میں بے احتیاط الفاظ سے بچنا چاہیے۔
