صحیح بخاری حدیث ۳۳۷۵ - لوط علیہ السلام اور مضبوط سہارا

لوط علیہ السلام کی پناہ: مضبوط سہارا اللہ ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۷۵

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَغْفِرُ اللَّهُ لِلُوطٍ إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام کی مغفرت فرمائے کہ وہ زبردست رکن (یعنی اللہ) کی پناہ میں گئے تھے۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۳۷۵ کا خلاصہ

اس مختصر حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام کی مغفرت فرمائے، وہ مضبوط سہارے کی پناہ میں گئے تھے۔ روایت کے الفاظ بہت مختصر ہیں، مگر مرکزی بات صاف ہے کہ لوط علیہ السلام کا سہارا اللہ تعالیٰ تھا۔ یہاں مضبوط سہارے سے مراد وہ پناہ ہے جو اللہ کی طرف ہوتی ہے۔ حدیث میں نہ کوئی تفصیلی واقعہ بیان کیا گیا ہے نہ کوئی لمبا پس منظر، اس لیے تشریح کو اسی حد میں رکھنا درست ہے۔ ایس ای او کے لیے اس روایت کے اہم الفاظ لوط علیہ السلام کی حدیث، رکن شدید، اللہ کی پناہ، اور مضبوط سہارا ہیں۔ عام فہم سبق یہ ہے کہ مشکل میں بندہ اصل پناہ اللہ ہی سے مانگتا ہے اور انبیاء علیہم السلام کا ذکر ادب کے ساتھ کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • لوط علیہ السلام کے لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے مغفرت کی دعا فرمائی۔
  • حدیث میں مضبوط سہارے کی پناہ کا ذکر اللہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
  • مشکل وقت میں اصل سہارا اللہ تعالیٰ ہے۔
  • انبیاء علیہم السلام کے بارے میں بات کرتے ہوئے احترام کا انداز ہونا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں