صحیح بخاری حدیث ۳۳۷۴ - سب سے زیادہ شریف کون؟

سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ تقویٰ، نسب اور دین کی سمجھ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۷۴

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ سَمِعَ الْمُعْتَمِرَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ ، قَالَ : أَكْرَمُهُمْ أَتْقَاهُمْ ، قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ ، قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَخِيَارُكُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُكُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو ‘ وہ سب سے زیادہ شریف ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر سب سے زیادہ شریف یوسف نبی اللہ بن نبی اللہ (یعقوب) بن نبی اللہ (اسحاق) بن خلیل اللہ (ابراہیم علیہ السلام) تھے۔“صحابہ نے عرض کیا: ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا تم لوگ عرب کے شرفاء کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر جاہلیت میں جو لوگ شریف اور اچھے عادات و اخلاق کے تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف اور اچھے سمجھے جائیں گے جب کہ وہ دین کی سمجھ بھی حاصل کریں۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۳۷۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے پہلے فرمایا: جو سب سے زیادہ متقی ہے، وہی سب سے زیادہ شریف ہے۔ صحابہ نے بتایا کہ ان کا سوال کسی اور پہلو سے ہے، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے یوسف علیہ السلام کا ذکر فرمایا کہ وہ نبی اللہ کے بیٹے، نبی اللہ کے پوتے، نبی اللہ کے پڑپوتے اور خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ پھر جب صحابہ نے عرب خاندانوں کے بارے میں پوچھا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو اچھے تھے، اسلام میں بھی اچھے ہیں، جب وہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔ اس حدیث کا اصل ایس ای او موضوع تقویٰ، شرافت، نسب، اور دین کی سمجھ ہے۔ یہ روایت نسب کو مانتی ہے مگر اصل معیار تقویٰ کو پہلے رکھتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اصل عزت اور شرافت تقویٰ سے ہے۔
  • یوسف علیہ السلام کا پاکیزہ نسب حدیث میں خاص طور پر ذکر ہوا۔
  • اچھی عادتیں اسلام کے بعد بھی قدر رکھتی ہیں جب دین کی سمجھ ساتھ ہو۔
  • نسب کے ساتھ دین کی سمجھ اور تقویٰ زیادہ اہم ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں