صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۲ - نفاق کے بعد توبہ

نفاق، توبہ اور اللہ کی قبولیت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۰۲

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، قَالَ : كُنَّا فِي حَلْقَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، فَجَاءَ حُذَيْفَةُ ، حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقُ عَلَى قَوْمٍ خَيْرٍ مِنْكُمْ " ، قَالَ الْأَسْوَدُ : " سُبْحَانَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ سورة النساء آية 145 ، فَتَبَسَّمَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَجَلَسَ حُذَيْفَةُ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ ، فَقَامَ عَبْدُ اللَّهِ ، فَتَفَرَّقَ أَصْحَابُهُ فَرَمَانِي بِالْحَصَا ، فَأَتَيْتُهُ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : " عَجِبْتُ مِنْ ضَحِكِهِ ، وَقَدْ عَرَفَ مَا قُلْتُ ، لَقَدْ أُنْزِلَ النِّفَاقُ عَلَى قَوْمٍ كَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ ، ثُمَّ تَابُوا فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ " .

اسود روایت:

ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حلقہ درس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر سلام کیا۔ پھر کہا نفاق میں وہ جماعت مبتلا ہو گئی جو تم سے بہتر تھی۔ اس پر اسود بولے، سبحان اللہ، اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے «إن المنافقين في الدرك الأسفل من النار‏» کہ ”منافق دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسکرانے لگے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد کے کونے میں جا کر بیٹھ گئے۔اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھ گئے اور آپ کے شاگرد بھی اِدھر اُدھر چلے گئے۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر کنکری پھینکی (یعنی مجھ کو بلایا) میں حاضر ہو گیا تو کہا کہ مجھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہنسی پر حیرت ہوئی حالانکہ جو کچھ میں نے کہا تھا اسے وہ خوب سمجھتے تھے۔ یقیناً نفاق میں ایک جماعت کو مبتلا کیا گیا تھا جو تم سے بہتر تھی، اس لیے کہ پھر انہوں نے توبہ کر لی اور اللہ نے بھی ان کی توبہ قبول کر لی۔

صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں حذیفہ رضی اللہ عنہ ایک مجلس میں آئے اور فرمایا کہ نفاق ایسی جماعت پر نازل ہوا جو تم سے بہتر تھی۔ اسود رحمہ اللہ نے تعجب کیا، کیونکہ قرآن میں منافقین کے لیے جہنم کے نچلے درجے کا ذکر ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسکرا دیے، اور بعد میں حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ میری بات سمجھتے تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ کا مطلب یہ تھا کہ کچھ لوگ نفاق میں مبتلا ہوئے، پھر انہوں نے توبہ کی، تو اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ یہ حدیث نفاق کے خطرے، انسان کی کمزوری، اور سچی توبہ کی امید کو ایک ساتھ بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نفاق کا خطرہ معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
  • کچھ لوگ نفاق میں مبتلا ہوئے، پھر انہوں نے توبہ کی۔
  • اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔
  • دینی بات سمجھنے میں جلدی رد کرنے کے بجائے غور کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں