صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۱ - میاں بیوی میں صلح کی صورت
شوہر کی بے رغبتی اور بیوی کی طرف سے صلح کی صورت
صحیح بخاری : ۴۶۰۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۰۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا سورة النساء آية 128 ، قَالَتْ : " الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْمَرْأَةُ لَيْسَ بِمُسْتَكْثِرٍ مِنْهَا ، يُرِيدُ أَنْ يُفَارِقَهَا ، فَتَقُولُ : أَجْعَلُكَ مِنْ شَأْنِي فِي حِلٍّ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ " .
عائشہ روایت:
´ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے` آیت «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا.» ”اور کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف ہو“ کے متعلق کہا کہ ایسا مرد جس کے ساتھ اس کی بیوی رہتی ہے، لیکن شوہر کو اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں، بلکہ وہ اسے جدا کر دینا چاہتا ہے، اس پر عورت کہتی ہے کہ میں اپنی باری اور اپنا (نان نفقہ) معاف کر دیتی ہوں (تم مجھے طلاق نہ دو) تو ایسی صورت کے متعلق یہ آیت اسی باب میں اتری۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت “اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف ہو” کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرد کے پاس بیوی ہوتی ہے، مگر وہ اس کی طرف زیادہ رغبت نہیں رکھتا اور اسے جدا کرنا چاہتا ہے۔ اس وقت عورت کہتی ہے کہ میں اپنی باری اور اپنا نان نفقہ معاف کرتی ہوں، تم مجھے طلاق نہ دو۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی۔ اس حدیث میں میاں بیوی کے تعلق، بے رغبتی، جدائی کے خوف، اور صلح کی ایک صورت کا ذکر ہے۔ بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے جو روایت میں آئی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- میاں بیوی کے معاملے میں صلح کی صورت آیت میں بیان ہوئی۔
- بیوی جدائی سے بچنے کے لیے اپنی باری یا خرچ چھوڑنے کی بات کر سکتی ہے۔
- شوہر کی بے رغبتی ایک حقیقی گھریلو مسئلہ ہو سکتی ہے۔
- حدیث میں اس خاص صورت کا ذکر کیا گیا ہے۔
