صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۰ - یتیم لڑکی کے نکاح اور مال کا حق
یتیم لڑکی کا حق، نکاح اور مال کی حفاظت
صحیح بخاری : ۴۶۰۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۰۰
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ إِلَى قَوْلِهِ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ سورة النساء آية 127 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : " هُوَ الرَّجُلُ تَكُونُ عِنْدَهُ الْيَتِيمَةُ هُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا ، فَأَشْرَكَتْهُ فِي مَالِهِ حَتَّى فِي الْعَذْقِ ، فَيَرْغَبُ أَنْ يَنْكِحَهَا ، وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا رَجُلًا ، فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ بِمَا شَرِكَتْهُ ، فَيَعْضُلُهَا ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ " .
عائشہ روایت:
´ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ حماد بن اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے` آیت «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن» ”لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ مانگتے ہیں۔ آپ کہہ دیں کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں (وہی) فتویٰ دیتا ہے“ آیت «وترغبون أن تنكحوهن» تک۔انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی کہ اگر اس کی پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو اور وہ اس کا ولی اور وارث بھی ہو اور لڑکی اس کے مال میں بھی حصہ دار ہو۔ یہاں تک کہ کھجور کے درخت میں بھی۔ اب وہ شخص خود اس لڑکی سے نکاح کرنا چاہے، کیونکہ اسے یہ پسند نہیں کہ کسی دوسرے سے اس کا نکاح کر دے کہ وہ اس کے اس مال میں حصہ دار بن جائے، جس میں لڑکی حصہ دار تھی، اس وجہ سے اس لڑکی کا کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ ہونے دے تو ایسے شخص کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت “لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ پوچھتے ہیں” کی وضاحت کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی جس کی پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو، وہی اس کا ولی اور وارث ہو، اور لڑکی اس کے مال میں بھی حصہ دار ہو، یہاں تک کہ کھجور کے درخت میں بھی۔ وہ شخص خود اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو، لیکن کسی دوسرے سے اس کا نکاح اس لیے نہ کرے کہ دوسرا شخص اس مال میں شریک نہ ہو جائے۔ اس طرح وہ لڑکی کو روک لیتا تھا۔ یہ حدیث یتیم لڑکی کے حق، ولی کی ذمہ داری، مال کے معاملے میں انصاف، اور نکاح میں رکاوٹ ڈالنے کی خرابی کو صاف کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولی کو یتیم لڑکی کے مال کی وجہ سے اسے روکنا نہیں چاہیے۔
- یتیم لڑکی کے نکاح اور مال کے معاملے میں انصاف ضروری ہے۔
- کسی کے مالی فائدے کے لیے نکاح روکنا زیادتی بن سکتا ہے۔
- آیت ایسے ہی معاملے کی اصلاح کے لیے نازل ہوئی۔
