صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۹ - بارش اور بیماری کا عذر
بارش، بیماری اور زخمی ہونے کے عذر کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۵۹۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۵۹۹
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ أَبُو الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يَعْلَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَى سورة النساء آية 102 ، قَالَ : " عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، وَكَانَ جَرِيحًا " .
عبداللہ بن عباس روایت:
´ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو حجاج بن محمد اعور نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، انہیں یعلیٰ بن مسلم نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے` آیت «إن كان بكم أذى من مطر أو كنتم مرضى» کے سلسلے میں بتلایا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے ان سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
صحیح بخاری حدیث ۴۵۹۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سورہ نساء کی آیت “اگر تمہیں بارش سے تکلیف ہو یا تم بیمار ہو” کے متعلق بتایا کہ یہ آیت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی، اور وہ زخمی تھے۔ روایت بہت مختصر ہے، اس لیے اس سے اتنی ہی بات واضح کی جا سکتی ہے کہ قرآن نے تکلیف، بارش، بیماری، اور زخم جیسے حالات کو نظر انداز نہیں کیا۔ دینی احکام میں انسان کی جسمانی حالت بھی اہم ہے۔ یہاں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کا زخم ایک خاص سبب کے طور پر بیان ہوا ہے۔ یہ حدیث عذر، تکلیف اور رخصت کے موضوع کو سادہ انداز میں سامنے لاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیماری یا زخم جیسے حالات دینی معاملے میں قابل لحاظ ہو سکتے ہیں۔
- عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ زخمی تھے۔
- آیت میں بارش اور بیماری کی تکلیف کا ذکر آیا۔
- قرآن انسان کی واقعی حالت کو نظر انداز نہیں کرتا۔
