صحیح بخاری حدیث ۵۲۰۶ - میاں بیوی کی صلح بہتر ہے

میاں بیوی کی صلح کی حدیث: صلح بہتر ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۰۶

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا ، قَالَتْ : " هِيَ الْمَرْأَةُ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَا يَسْتَكْثِرُ مِنْهَا فَيُرِيدُ طَلَاقَهَا وَيَتَزَوَّجُ غَيْرَهَا ، تَقُولُ لَهُ : أَمْسِكْنِي وَلَا تُطَلِّقْنِي ، ثُمَّ تَزَوَّجْ غَيْرِي فَأَنْتَ فِي حِلٍّ مِنَ النَّفَقَةِ عَلَيَّ وَالْقِسْمَةِ لِي ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى : فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ سورة النساء آية 128 " .

عائشہ روایت:

آیت «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا‏» ”اور اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے نفرت اور منہ موڑنے کا خوف محسوس کرے۔“ کے متعلق فرمایا کہ آیت میں ایسی عورت کا بیان ہے جو کسی مرد کے پاس ہو اور وہ مرد اسے اپنے پاس زیادہ نہ بلاتا ہو بلکہ اسے طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہو اور اس کے بجائے دوسری عورت سے شادی کرنا چاہتا ہو لیکن اس کی موجودہ بیوی اس سے کہے کہ مجھے اپنے ساتھ ہی رکھو اور طلاق نہ دو۔ تم میرے سوا کسی اور سے شادی کر سکتے ہو، میرے خرچ سے بھی تم آزاد ہو اور تم پر باری کی بھی کوئی پابندی نہیں تو اس کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں «فلا جناح عليهما أن يصالحا بينهما صلحا والصلح خير‏» کہ ”پس ان پر کوئی گناہ نہیں اگر وہ آپس میں صلح کر لیں اور صلح بہرحال بہتر ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۵۲۰۶ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع میاں بیوی کی صلح ہے۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے سورۃ النساء کی آیت کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کبھی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے بے رخی یا طلاق کا اندیشہ ہو سکتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر وہ اپنے نکاح کو باقی رکھنا چاہے اور شوہر سے کہے کہ مجھے طلاق نہ دو، تم دوسری شادی کر سکتے ہو، میرے خرچ یا باری کے معاملے میں تم پر پابندی نہیں، تو اس طرح باہمی رضامندی سے صلح ہو سکتی ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ گھر ٹوٹنے کے وقت ضد کے بجائے بات چیت، رضامندی اور صلح کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ یہاں زور اسی جملے پر ہے کہ صلح بہتر ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • میاں بیوی کے درمیان مشکل آئے تو باہمی رضامندی سے صلح کا راستہ نکل سکتا ہے۔
  • نکاح کو باقی رکھنے کے لیے عورت اپنی کچھ رعایتیں چھوڑنے کی پیشکش کر سکتی ہے۔
  • طلاق کے اندیشے میں معاملہ لڑائی کے بجائے صاف بات چیت سے حل کیا جا سکتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں