صحیح بخاری حدیث ۳۷۸۴ - محبت انصار اور نشانی ایمان

ایمان کی نشانی: انصار سے محبت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۷۸۴

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ ، وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ " .

انس بن مالک روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایمان کی نشانی انصار سے محبت رکھنا ہے اور نفاق کی نشانی انصار سے بغض رکھنا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۷۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں بات بہت مختصر مگر بہت گہری ہے: ایمان کی نشانی انصار سے محبت ہے، اور نفاق کی نشانی انصار سے بغض ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے علامت کے طور پر بیان فرمایا، اس لیے انصار کی محبت صرف تاریخی احترام نہیں بلکہ دینی قدر ہے۔ اس حدیث سے ہمیں یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ دل کے جذبات بھی دین میں وزن رکھتے ہیں۔ آدمی نماز، روزہ اور ظاہری نیکیوں کے ساتھ اپنے دل کو بھی دیکھے کہ وہ اللہ کے محبوب بندوں کے بارے میں کیا رکھتا ہے۔ انصار وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں اس حدیث میں ایمان کی نشانی کا ذکر آیا۔ اس لیے انصار سے محبت، ان کا ادب، اور ان کے بارے میں بری سوچ سے بچنا مومن کے شایان شان ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • انصار سے محبت کو ایمان کی نشانی کہا گیا ہے۔
  • انصار سے بغض نفاق کی علامت ہے۔
  • دل کی کیفیت بھی دینی اہمیت رکھتی ہے۔
  • اہل ایمان کو انصار کا ادب کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں