صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۵ - قرآن کی آخری نازل ہونے والی سورت
قرآن کی آخری نازل ہونے والی سورت اور آیت کلالہ کی حدیث
صحیح بخاری : ۴۶۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۶۰۵
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " آخِرُ سُورَةٍ نَزَلَتْ بَرَاءَةَ ، وَآخِرُ آيَةٍ نَزَلَتْ يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلالَةِ سورة النساء آية 176 " .
براء بن عازب روایت:
سب سے آخر میں جو سورت نازل ہوئی وہ سورۃ برات ہے اور (احکام میراث کے سلسلے میں) سب سے آخر میں جو آیت نازل ہوئی وہ «يستفتونك قل الله یفتیکم فى الکلالة» ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۴۶۰۵ کا خلاصہ
یہ حدیث نزول قرآن کے بارے میں ایک خاص بات بتاتی ہے۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سب سے آخر میں جو سورت نازل ہوئی وہ سورۃ برات ہے، اور احکام میراث کے سلسلے میں آخر میں جو آیت نازل ہوئی وہ آیت کلالہ ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع آخری سورت نازل ہونے والی اور آیت کلالہ کی حدیث ہے۔ اس میں ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام قرآن کے نزول، سورتوں اور آیات کے بارے میں بہت دھیان سے علم محفوظ رکھتے تھے۔ یہاں کوئی لمبی بحث نہیں، صرف ایک واضح خبر ہے کہ سورۃ برات اور سورۃ النساء کی آیت کلالہ کا نزول خاص اہمیت رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ کرام قرآن کے نزول کی تفصیل یاد رکھتے تھے۔
- آیت کلالہ کا تعلق میراث کے حکم سے ہے۔
- دینی علم میں روایت کی درست نقل بڑی اہم بات ہے۔
- قرآن کی سورتوں اور آیات کے نزول کا علم امت کے لیے محفوظ کیا گیا۔
