صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۱ - آسیہ، مریم اور عائشہ رضی اللہ عنہن کی فضیلت
آسیہ، مریم اور عائشہ رضی اللہ عنہن کی فضیلت کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۱۱
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ ، وَإِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ " .
ابوموسیٰ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مردوں میں تو بہت سے کامل لوگ اٹھے لیکن عورتوں میں فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران علیہما السلام کے سوا اور کوئی کامل نہیں پیدا ہوئی ‘ ہاں عورتوں پر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند عظیم خواتین کا ذکر فرمایا۔ مردوں میں بہت سے کامل لوگ ہوئے، مگر عورتوں میں آسیہ، فرعون کی بیوی، اور مریم بنت عمران علیہما السلام کا خاص ذکر آیا۔ پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کو ثرید کی فضیلت سے تشبیہ دی گئی۔ اس حدیث کا اصل موضوع نیک خواتین کی فضیلت ہے۔ یہ بات بھی سمجھ آتی ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت نسب، مال یا ماحول سے نہیں، بلکہ ایمان اور مقام سے ہوتی ہے۔ آسیہ علیہا السلام فرعون کے گھر میں تھیں، مگر حدیث میں ان کی فضیلت بیان ہوئی۔ مریم علیہا السلام اور عائشہ رضی اللہ عنہا کا ذکر بھی خاص عزت کے ساتھ آیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک خواتین کا مقام حدیث میں خاص طور پر بیان ہوا ہے۔
- ماحول مشکل ہو تو بھی بندہ اللہ کے نزدیک بلند ہو سکتا ہے۔
- عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت واضح طور پر ذکر ہوئی ہے۔
- فضیلت کا اصل معیار اللہ کے ہاں مقام ہے۔
