صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۰ - موسیٰ علیہ السلام اور ان کی بڑی امت
موسیٰ علیہ السلام کی قوم: امتوں کے پیش کیے جانے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۴۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۴۱۰
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا ، قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ وَرَأَيْتُ سَوَادًا كَثِيرًا سَدَّ الْأُفُقَ ، فَقِيلَ : هَذَا مُوسَى فِي قَوْمِهِ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا ”میرے سامنے تمام امتیں لائی گئیں اور میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی جماعت آسمان کے کناروں پر چھائی ہوئی ہے۔ پھر بتایا گیا کہ یہ اپنی قوم کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۴۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ آپ کے سامنے امتیں پیش کی گئیں۔ آپ نے ایک بہت بڑی جماعت دیکھی جو آسمان کے کناروں تک پھیلی ہوئی تھی۔ پھر بتایا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ ہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع امتیں، انبیاء اور موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی کثرت ہے۔ متن میں زیادہ تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے بات کو اسی حد تک رکھنا چاہیے۔ حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو امتوں کا حال دکھایا، اور موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک بڑی جماعت تھی۔ یہ ذکر انبیاء کے مقام اور ان کی دعوت کے اثر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر نبی کی امت کا معاملہ اللہ کے علم میں ہے۔
- موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بڑی جماعت کا ذکر آیا ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو امتوں کا حال دکھایا گیا۔
- حدیث کی بات کو اسی متن تک محدود رکھنا چاہیے۔
