صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۶ - سینت کر نہ رکھو، خرچ کرو
صدقہ کی حدیث: خرچ کرو اور مال کو روک کر نہ بیٹھو
صحیح مسلم : ۲۳۷۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۷۶
وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ زُهَيْرٌ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ، وَعَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْفَحِي أَوِ انْضَحِي أَوْ أَنْفِقِي ، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " ،
ترجمہ اس کا وہی ہے جو اوپر گزرا اتنی بات زیادہ ہے کہ ”نہ سینت رکھ نہیں تو اللہ تجھ پر سینت رکھے گا۔“ (یعنی نہ دے گا)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع سخاوت اور صدقہ ہے۔ یہ روایت پچھلے مضمون کو مزید لفظوں کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ خرچ کرو، اور گن گن کر نہ رکھو، ورنہ اللہ تمہارے ساتھ بھی حساب والا معاملہ کرے گا۔ اس روایت میں یہ بات بھی آئی کہ سینت کر نہ رکھو، ورنہ اللہ بھی تم پر روک دے گا۔ حدیث کا سادہ مطلب یہ ہے کہ دینے کے وقت دل کو بند نہ کیا جائے۔ جب ضرورت مند سامنے ہو اور انسان کے پاس دینے کی گنجائش ہو تو صدقہ روکنے کا مزاج مناسب نہیں۔ البتہ حدیث کے متن میں خرچ کی ترغیب ہے، اسے فضول خرچی یا بے سوچے سمجھے خرچ کے معنی میں نہیں لینا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ دیتے وقت دل کی تنگی سے بچنا چاہیے۔
- مال کو صرف روک کر رکھنے کا مزاج خیر سے دور کر سکتا ہے۔
- خرچ کرنے کی ترغیب استطاعت کے دائرے میں سمجھنی چاہیے۔
- حدیث میں گن گن کر روکنے سے منع کیا گیا ہے۔
