صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۵ - خرچ کرو اور گن گن کر نہ روکو
خرچ کرنے کی حدیث: گن گن کر نہ روکو
صحیح مسلم : ۲۳۷۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۷۵
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنْفِقِي أَوِ انْضَحِي أَوِ انْفَحِي ، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
اسماء روایت:
مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خرچ کر اور گن گن کر نہ رکھ ورنہ اللہ بھی تجھے گن کر دے گا۔“ (یعنی کم دے گا)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع خرچ کرنا اور دل کی کشادگی ہے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: خرچ کرو، اور گن گن کر نہ رکھو، ورنہ اللہ بھی تمہیں گن کر دے گا۔ حدیث کے الفاظ مختصر ہیں، مگر پیغام بہت صاف ہے۔ خرچ کرتے وقت ایسا حسابی مزاج نہ ہو کہ آدمی نیکی سے ہاتھ روک لے۔ یہاں بات صدقہ اور خرچ میں کھلے دل کی ہے، نہ کہ فضول خرچی کی۔ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ جب اللہ کی رضا کے لیے دینے کا موقع آئے تو انسان دل تنگ نہ کرے۔ مال کو روک کر رکھنے کا مزاج انسان کو خیر کے کاموں سے دور کر سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ اور خرچ میں دل تنگ نہیں ہونا چاہیے۔
- گن گن کر روکنے کا مزاج نیکی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔
- دینے کے موقع پر انسان کو اپنی استطاعت کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔
- حدیث میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کو براہ راست نصیحت کی گئی۔
