صحیح بخاری حدیث ۲۶۷۸ - اسلام کے بنیادی فرائض
اسلام کے بنیادی فرائض: نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۶۷۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۷۸
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ :جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْإِسْلَامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ ، قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ ، قَالَ : وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ ، قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ تَطَّوَّعَ ، فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ ، وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلَا أَنْقُصُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ " .
طلحہ بن عبیداللہ روایت:
ایک صاحب (ضمام بن ثعلبہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اسلام کے متعلق پوچھنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دن اور رات میں پانچ نمازیں ادا کرنا۔“ اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ نماز اور ضروری ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں یہ دوسری بات ہے کہ تم نفل پڑھو۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اور رمضان کے روزے ہیں۔“ اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کچھ (روزے) واجب ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ”سوا اس کے جو تم اپنے طور پر نفل رکھو۔“طلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ کا بھی ذکر کیا تو انہوں نے پوچھا، کیا (جو فرض زکوٰۃ آپ نے بتائی ہے) اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی خیرات واجب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہیں، سوا اس کے جو تم خود اپنی طرف سے نفل دو۔“ اس کے بعد وہ صاحب یہ کہتے ہوئے جانے لگے کہ اللہ گواہ ہے نہ میں ان میں کوئی زیادتی کروں گا اور نہ کوئی کمی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر اس نے سچ کہا ہے تو کامیاب ہوا۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۶۷۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے دن رات کی پانچ نمازیں، رمضان کے روزے اور زکوٰۃ کا ذکر فرمایا۔ اس شخص نے ہر فرض کے بعد پوچھا کہ کیا اس کے علاوہ بھی کچھ لازم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں، مگر یہ کہ تم نفل کرو۔ پھر وہ شخص کہنے لگا کہ اللہ کی قسم، نہ میں اس میں زیادتی کروں گا نہ کمی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہوا۔ اس حدیث کا موضوع اسلام کے فرائض، پانچ نمازیں، رمضان روزہ اور زکوٰۃ ہے۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ فرض اعمال کو سچائی سے ادا کرنا دین کی بنیاد ہے، اور نفل اپنی خوشی سے کیے جاتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پانچ نمازیں دن رات کے بنیادی فرض اعمال میں شامل ہیں۔
- رمضان کے روزے فرض ہیں، نفل روزے الگ ہیں۔
- زکوٰۃ کا ذکر بنیادی مالی فرض کے طور پر آیا ہے۔
- فرض اعمال کو سچائی سے ادا کرنا کامیابی کا راستہ ہے۔
