صحیح مسلم حدیث ۱۶ - دجالوں اور کذابوں سے خبردار
آخری زمانے کے دجال اور کذاب: جھوٹی حدیث سے بچاؤ
صحیح مسلم : ۱۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَال : حَدَّثَنِي أَبُو شُرَيْحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ شَرَاحِيلَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : " يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ ، دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الأَحَادِيثِ ، بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ ، وَلَا آبَاؤُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ ، لَا يُضِلُّونَكُمْ ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اخیر زمانے میں دجال (یعنی جھوٹ کو سچ بنانے والے) اور کذاب (یعنی جھوٹ بولنے والے) پیدا ہوں گے۔ وہ ایسی حدیثیں تم کو سنائیں گے جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے نہ سنی ہوں گی تو بچے رہنا ان سے۔ ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو گمراہ کر دیں اور آفت میں ڈال دیں۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری زمانے کے بارے میں خبر دی کہ دجال اور کذاب پیدا ہوں گے۔ ترجمے میں دجال سے مراد وہ لوگ بیان ہوئے جو جھوٹ کو سچ بنانے والے ہوں، اور کذاب سے مراد جھوٹ بولنے والے۔ وہ لوگوں کو ایسی حدیثیں سنائیں گے جو نہ انہوں نے سنی ہوں گی اور نہ ان کے باپ دادا نے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے بچو، ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں گمراہ کر دیں اور آفت میں ڈال دیں۔ اس روایت میں جھوٹی حدیث، غلط دعوے اور بے بنیاد دینی باتوں سے بچنے کی سخت نصیحت ہے۔ حدیث کی تحقیق اور قابل اعتماد علم کی تلاش یہاں بہت ضروری سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آخری زمانے میں جھوٹ بولنے والے لوگ دینی باتیں پھیلائیں گے۔
- غیر معروف اور مشکوک روایات سے احتیاط کرنی چاہیے۔
- غلط بات انسان کو گمراہی اور فتنے میں ڈال سکتی ہے۔
- دین کی بات قابل اعتماد لوگوں سے لینی چاہیے۔
