صحیح مسلم حدیث ۱۷ - نامعلوم راوی سے جھوٹی بات کا خطرہ
نامعلوم شخص کی روایت: جھوٹی حدیث کا خطرہ
صحیح مسلم : ۱۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۷
وحَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبَدَةَ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ الشَّيْطَانَ لِيَتَمَثَّلُ فِي صُورَةِ الرَّجُلِ ، فَيَأْتِي الْقَوْمَ ، فَيُحَدِّثُهُمْ بِالْحَدِيثِ مِنَ الْكَذِبِ ، فَيَتَفَرَّقُونَ ، فَيَقُولُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ : سَمِعْتُ رَجُلًا ، أَعْرِفُ وَجْهَهُ وَلَا أَدْرِى مَا اسْمُهُ يُحَدِّثُ
عبداللہ بن مسعود روایت:
شیطان ایک مرد کی صورت بن کر لوگوں کے پاس آتا ہے پھر ان سے جھوٹی حدیث بیان کرتا ہے۔ جب لوگ اس جگہ سے جدا ہو جاتے ہیں تو ان میں سے ایک شخص کہتا ہے، میں نے سنا ایک شخص سے جس کی صورت میں پہچانتا ہوں لیکن نام نہیں جانتا وہ ایسا بیان کرتا تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۷ کا خلاصہ
اس اثر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک تنبیہ بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ شیطان ایک مرد کی صورت میں لوگوں کے پاس آتا ہے اور ان سے جھوٹی حدیث بیان کرتا ہے۔ پھر جب لوگ جدا ہوتے ہیں تو ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ میں نے ایک شخص سے سنا، اس کا چہرہ پہچانتا ہوں مگر نام نہیں جانتا۔ اس قول میں بہت صاف سبق ہے کہ نامعلوم شخص کی بات کو حدیث سمجھ کر آگے بیان نہیں کرنا چاہیے۔ صرف یہ کہنا کہ کسی آدمی نے بتایا، کافی نہیں۔ حدیث کی تحقیق، راوی کی پہچان، اور جھوٹی روایت سے بچنا ضروری ہے۔ یہ روایت سننے والے کو بھی ذمہ دار بناتی ہے کہ وہ بات کے ذریعہ کو دیکھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نامعلوم شخص سے سنی ہوئی بات کو حدیث بنا کر بیان نہ کیا جائے۔
- جھوٹی بات کبھی قابل اعتماد صورت میں بھی آ سکتی ہے۔
- حدیث کے لیے راوی اور ذریعہ کی پہچان اہم ہے۔
- سنی سنائی بات کو بغیر تحقیق آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔
