صحیح مسلم حدیث ۱۸ - فتنہ انگیز تلاوت سے احتیاط

شیطانوں کا قرآن سنانا: دینی بات میں احتیاط

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۸

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : إِنَّ فِي الْبَحْرِ شَيَاطِينَ مَسْجُونَةً ، أَوْثَقَهَا سُلَيْمَانُ يُوشِكُ أَنْ تَخْرُجَ ، فَتَقْرَأَ عَلَى النَّاسِ قُرْآنًا

عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:

دریا میں (یعنی سمندر میں) بہت شیطان ہیں جن کو قید کیا ہے سیدنا سلیمان علیہ السلام نے، قریب ہے کہ وہ نکلیں اور لوگوں کو قرآن سنائیں۔

صحیح مسلم حدیث ۱۸ کا خلاصہ

اس اثر میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کا قول نقل ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمندر میں بہت سے شیطان ہیں جنہیں سیدنا سلیمان علیہ السلام نے قید کیا تھا، قریب ہے کہ وہ نکلیں اور لوگوں کو قرآن سنائیں۔ اس متن میں اصل توجہ اس بات پر ہے کہ ہر ظاہری دینی بات سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔ اگر کوئی قرآن پڑھ کر سنائے تو بھی سننے والے کو دینی سمجھ، احتیاط اور صحیح ذریعہ کا خیال رکھنا چاہیے۔ اس روایت میں تفصیلی حکم نہیں دیا گیا، اس لیے اسی حد تک بات کی جا سکتی ہے کہ دینی بات سننے میں اندھی قبولیت کے بجائے احتیاط چاہیے۔ یہ موضوع جھوٹی رہنمائی اور فتنہ انگیز باتوں سے بچنے سے جڑا ہوا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظاہری دینی بات سن کر بھی احتیاط رکھنی چاہیے۔
  • ہر سنانے والا لازماً قابل اعتماد نہیں ہوتا۔
  • دینی علم میں ذریعہ اور اعتماد کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • فتنہ انگیز باتوں سے بچنے کے لیے سمجھ بوجھ ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں