صحیح مسلم حدیث ۱۵ - نئی اور انوکھی روایات سے بچاؤ

انوکھی حدیثیں بیان کرنے والوں سے بچنے کی نصیحت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِى أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " سَيَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِى ، أُنَاسٌ يُحَدِّثُونَكُمْ مَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ ، وَلَا آبَاؤُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری اخیر امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تم سے حدیثیں بیان کریں گے جن کو نہ تم نے سنا، نہ تمہارے باپ دادا نے تو ان سے بچے رہنا۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری آخری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو تم سے ایسی حدیثیں بیان کریں گے جنہیں نہ تم نے سنا ہوگا اور نہ تمہارے باپ دادا نے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے بچے رہنا۔ اس روایت کا موضوع جھوٹی یا غیر معروف باتوں سے احتیاط ہے۔ یہاں خاص طور پر ایسے لوگوں سے بچنے کو کہا گیا جو نئی نئی باتیں حدیث کے نام سے سنائیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر غیر معروف بات لازماً جھوٹ ہے، لیکن حدیث کے متن کے مطابق ایسی بات سن کر احتیاط لازم ہے۔ حدیث کی تحقیق، قابل اعتماد ذریعہ، اور جھوٹی روایت سے بچاؤ اس حدیث کا واضح سبق ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نئی اور انوکھی بات کو فوراً حدیث مان لینا درست نہیں۔
  • ایسے لوگوں سے بچنا چاہیے جو غیر معروف باتیں حدیث کے نام سے سنائیں۔
  • حدیث سننے میں بھی تحقیق اور احتیاط ضروری ہے۔
  • دین کی بات قابل اعتماد ذریعے سے لینی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں