صحیح مسلم حدیث ۱۴ - لوگوں کی سمجھ کے مطابق بات کرنا
لوگوں کی سمجھ کے مطابق حدیث بیان کرنا
صحیح مسلم : ۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴
وحَدَّثَنِي أَبُو طَاهِرٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : مَا أَنْتَ بِمُحَدِّثٍ قَوْمًا حَدِيثًا ، لَا تَبْلُغُهُ عُقُولُهُمْ ، إِلَّا كَانَ لِبَعْضِهِمْ فِتْنَةً .
عبداللہ بن مسعود روایت:
جب تو لوگوں سے ایسی حدیثیں بیان کرے جو ان کی عقل میں نہ آئیں تو بعض لوگوں کیلئے اس میں فتنہ ہو گا یعنی وہ گمراہ ہو جائیں گے اسی لئے ہر شخص سے اس کی عقل کے موافق بات کرنی چاہئے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۴ کا خلاصہ
اس اثر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک اہم اصول بتایا۔ انہوں نے فرمایا کہ جب تم لوگوں سے ایسی حدیث بیان کرو جو ان کی عقل تک نہ پہنچے، تو وہ بعض لوگوں کے لیے فتنہ بن سکتی ہے۔ ترجمے میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہر شخص سے اس کی سمجھ کے مطابق بات کرنی چاہیے۔ اس قول سے یہ سبق ملتا ہے کہ صحیح بات بھی اگر غلط جگہ، غلط انداز یا ایسے لوگوں کے سامنے کہی جائے جو اسے سمجھ نہ سکیں، تو الجھن پیدا ہو سکتی ہے۔ حدیث بیان کرنے کے آداب میں صرف سچ بولنا ہی نہیں، بلکہ سامع کی سمجھ کا خیال رکھنا بھی شامل ہے۔ دین کی بات آسان، صاف اور مناسب انداز میں کہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لوگوں کی سمجھ سے باہر بات بعض کے لیے فتنہ بن سکتی ہے۔
- دین کی بات کرتے وقت سننے والے کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- صحیح بات بھی مناسب انداز سے بیان کرنی چاہیے۔
- حدیث بیان کرنے میں حکمت اور احتیاط ضروری ہے۔
