صحیح مسلم حدیث ۱۹ - حدیث قبول کرنے میں احتیاط
حدیث قبول کرنے میں احتیاط: ابن عباسؓ کا عمل
صحیح مسلم : ۱۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۹
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَسَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الأَشْعَثِيُّ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ سَعِيدٌ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : جَاءَ هَذَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَعْنِي بُشَيْرَ بْنَ كَعْبٍ ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : " عُدْ لِحَدِيثِ كَذَا وَكَذَا ، فَعَادَ لَهُ ، ثُمَّ حَدَّثَهُ ، فَقَالَ لَهُ : عُدْ لِحَدِيثِ كَذَا وَكَذَا ، فَعَادَ لَهُ ، فَقَالَ لَهُ : مَا أَدْرِى ، أَعَرَفْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ وَأَنْكَرْتَ هَذَا ، أَمْ أَنْكَرْتَ حَدِيثِي كُلَّهُ وَعَرَفْتَ هَذَا ؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ : إِنَّا كُنَّا نُحَدِّثُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِذْ لَمْ يَكُنْ يُكْذَبُ عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ وَالذَّلُولَ ، تَرَكْنَا الْحَدِيثَ عَنْهُ
طاؤس روایت:
بشیر بن کعب، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے حدیثیں بیان کرنے لگے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے کہا کہ فلاں حدیث پھر بیان کر۔ انہوں نے پھر دوبارہ بیان کیا اور کہا: مجھے معلوم نہیں ہوتا کیا تم نے سب حدیثیں میری پہچانیں اور اسی کو منکر سمجھا یا سب حدیثوں کو منکر سمجھا اور اسی حدیث کو پہچانا۔سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث نقل کیا کرتے تھے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا جاتا تھا پھر جب لوگ بری اور اچھی راہ چلنے لگے (یعنی سب قسم کی حدیثیں صحیح اور غلط نقل کرنے لگے) تو ہم نے حدیثیں بیان کرنا چھوڑ دیا۔
صحیح مسلم حدیث ۱۹ کا خلاصہ
اس روایت میں بشیر بن کعب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور حدیثیں بیان کرنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے بعض حدیثیں دوبارہ کہلوائیں۔ بشیر نے پوچھا کہ کیا آپ نے میری سب حدیثیں پہچانیں اور ایک کو منکر سمجھا، یا سب کو منکر سمجھا اور ایک کو پہچانا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کیا کرتے تھے جب آپ پر جھوٹ نہیں باندھا جاتا تھا۔ پھر جب لوگ صحیح اور غلط ہر طرح کی باتیں نقل کرنے لگے تو ہم نے حدیث بیان کرنا چھوڑ دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث قبول کرنے میں احتیاط، پہچان اور تحقیق ضروری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث سننے والے کو بھی تحقیق اور پہچان کی ضرورت ہے۔
- جب صحیح اور غلط باتیں مل جائیں تو احتیاط بڑھ جاتی ہے۔
- صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حدیث کے معاملے میں بہت محتاط تھے۔
- ہر بیان کرنے والے کی بات فوراً قبول نہیں کرنی چاہیے۔
