صحیح مسلم حدیث ۲۰ - حدیث یاد کرنے اور اعتماد کا اصول

حدیث یاد کرنا اور اعتبار: ابن عباسؓ کی نصیحت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۰

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ ، عَنِ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : إِنَّمَا " كُنَّا نَحْفَظُ الْحَدِيثَ ، وَالْحَدِيثُ يُحْفَظُ عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَّا إِذْ رَكِبْتُمْ كُلَّ صَعْبٍ وَذَلُولٍ ، فَهَيْهَاتَ

ابن عباس روایت:

ہم حدیث یاد کیا کرتے تھے اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کرنی چاہیے لیکن جب تم بری اور اچھی ہر طرح کی راہ چلنے لگے تو اب اعتبار جاتا رہا اور دور ہو گیا۔

صحیح مسلم حدیث ۲۰ کا خلاصہ

اس روایت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم حدیث یاد کیا کرتے تھے، اور حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی یاد کرنی چاہیے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ جب لوگوں نے ہر طرح کی راہ اختیار کر لی، یعنی صحیح اور غلط سب طرح کی باتیں نقل ہونے لگیں، تو اعتبار دور ہو گیا۔ اس قول میں حدیث کی قدر بھی بیان ہوئی اور احتیاط بھی۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرنا پسندیدہ اور اہم کام ہے، مگر جب ماحول میں جھوٹی، کمزور یا غیر معتبر باتیں پھیل جائیں تو سننے اور بیان کرنے میں زیادہ تحقیق چاہیے۔ یہ روایت ہمیں سکھاتی ہے کہ دین کی بات محبت سے بھی لی جائے اور ذمہ داری کے ساتھ بھی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم یاد کرنا قابل قدر عمل ہے۔
  • صحیح اور غلط باتیں مل جائیں تو اعتماد کم ہو جاتا ہے۔
  • حدیث لینے اور دینے میں تحقیق ضروری ہے۔
  • دینی بات محبت کے ساتھ مگر احتیاط سے قبول کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں