صحیح مسلم حدیث ۱۰ - امام مالکؒ کی نصیحت: ہر بات نہ بیان کرو
امام مالکؒ کا قول: ہر سنی ہوئی بات بیان نہ کرو
صحیح مسلم : ۱۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۰
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَال : قَالَ لِي مَالِكٌ : اعْلَمْ أَنَّهُ لَيْسَ يَسْلَمُ رَجُلٌ حَدَّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ ، وَلَا يَكُونُ إِمَامًا أَبَدًا وَهُوَ يُحَدِّثُ بِكُلِّ مَا سَمِعَ
ابن وہب روایت:
امام مالک رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: جان لو اس بات کو کہ جو شخص کہہ ڈالے جو سنے وہ بچ نہیں سکتا (جھوٹ سے) اور کبھی وہ شخص امام (پیشوا) نہیں ہو سکتا جو بیان کرے ہر بات جس کو وہ سنے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۰ کا خلاصہ
اس روایت میں ابن وہب بیان کرتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے انہیں نصیحت کی۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص ہر وہ بات بیان کرتا ہے جو اس نے سنی ہو، وہ جھوٹ سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔ پھر فرمایا کہ ایسا شخص کبھی امام، یعنی لوگوں کے لیے قابل پیروی شخص، نہیں ہو سکتا جو ہر سنی ہوئی بات بیان کرتا رہے۔ اس قول میں علم، زبان اور ذمہ داری کا بڑا سادہ اصول ہے۔ علم صرف زیادہ باتیں جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کون سی بات بیان کرنی ہے اور کون سی روکنی ہے۔ حدیث کی تحقیق، سنی سنائی بات سے بچنا، اور بات کو پرکھ کر کہنا اس اثر کا اصل سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر سنی ہوئی بات بیان کرنے والا غلطی سے محفوظ نہیں رہتا۔
- قابل اعتماد شخص بات کو پرکھ کر بیان کرتا ہے۔
- علم میں خاموشی اور احتیاط بھی شامل ہے۔
- لوگوں کی رہنمائی کرنے والے کو زبان میں زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے۔
