صحیح مسلم حدیث ۹ - سیدنا عمرؓ کی نصیحت: ہر بات نہ کہو
ہر سنی بات کہہ دینا: سیدنا عمرؓ کی نصیحت
صحیح مسلم : ۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۹
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَال : قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : بِحَسْبِ الْمَرْءِ مِنَ الْكَذِبِ ، أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ .
ابوعثمان نہدی روایت:
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کافی ہے آدمی کو اتنا جھوٹ کہ کہہ ڈالے جو بات سنے۔
صحیح مسلم حدیث ۹ کا خلاصہ
اس اثر میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا قول نقل ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ آدمی کے لیے اتنا جھوٹ کافی ہے کہ وہ ہر وہ بات بیان کر دے جو وہ سنتا ہے۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مضمون سے بہت قریب ہے جس میں ہر سنی ہوئی بات بیان کرنے سے روکا گیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی نصیحت ہمیں روزمرہ زندگی میں بھی کام دیتی ہے۔ انسان مجلس میں، گھر میں، بازار میں یا سوشل میڈیا پر بہت کچھ سنتا ہے۔ مگر سنی ہوئی ہر بات درست نہیں ہوتی۔ خبر کی تصدیق، زبان کی حفاظت، اور جھوٹی بات سے بچنا اس قول کا مرکزی پیغام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر سنی ہوئی بات بیان کرنا جھوٹ میں ڈال سکتا ہے۔
- بات پھیلانے سے پہلے اس کی حقیقت سوچنی چاہیے۔
- سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے زبان کی احتیاط کی تعلیم دی۔
- غیر مصدقہ بات کو آگے بڑھانا مناسب نہیں۔
