صحیح مسلم حدیث ۸ - سنی سنائی بات پھیلانے سے بچاؤ
سنی سنائی بات آگے پھیلانا: حدیث کی احتیاط
صحیح مسلم : ۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۸
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ ذَلِكَ .
ابوہریرہ روایت:
حفص بن عاصم سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مثل بیان کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۸ کا خلاصہ
یہ روایت حفص بن عاصم کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان ہوئی ہے، اور اس میں پچھلی روایت جیسا مضمون آیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان جو کچھ سنتا ہے، اسے فوراً آگے بیان نہ کرے۔ ہر بات درست نہیں ہوتی، ہر خبر قابل اعتماد نہیں ہوتی، اور ہر روایت آگے پہنچانے کے قابل نہیں ہوتی۔ اس حدیث سے حدیث بیان کرنے کے آداب بھی معلوم ہوتے ہیں اور عام گفتگو کا اصول بھی۔ آدمی اگر ہر سنی ہوئی بات شیئر کرے تو غلط خبر یا جھوٹی بات بھی اس کی زبان سے پھیل سکتی ہے۔ اس لیے حدیث کی تحقیق، خبر کی تصدیق، اور خاموشی اختیار کرنا بہت مفید عمل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر سنی ہوئی بات کو آگے پہنچانا خطرے سے خالی نہیں۔
- غلط بات پھیلنے سے بچنے کے لیے تصدیق ضروری ہے۔
- حدیث بیان کرتے وقت خاص طور پر احتیاط کرنی چاہیے۔
- خاموش رہنا بعض اوقات غلط بات کہنے سے بہتر ہے۔
